آن لائن پیر

آن لائن پیر cyber crime story

The Online Peer (آن لائن پیر) is a cybercrime short story based on true facts but dummy characters. To protect the identity of victims real names and places are always hidden.  

“پیر کے احترام کا ڈر خدا کے احترام کے ڈر سے زیادہ ہوتا ہے، لوگ خدا کی نہیں مانتے جبکہ پیر کی ہر ایک مان لیتے ہیں۔”

طالب علم گیٹ پر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ یونیورسٹی مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں مجھے سائبر ہراسمنٹ پر لیکچر کے لیے بلایا گیا تھا۔ ایک طالب علم میرے ساتھ فون پہ مسلسل رابطے میں مجھے متعلقہ گیٹ اور پارکنگ کے لئے گائیڈ کر رہا تھا۔ متعلقہ گیٹ میں داخل ہوتے ہی میں نے اپنا تعارف کروایا تو طالب علم خوش آمدید اور احترام سے یونیورسٹی فیکلٹی پارکنگ کی طرف گائیڈ کرنے لگ گئے، ایک طالب علم میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا، کہ مجھے گاڑی پارکنگ کے بعد لیکچر ہال تک لے جا سکے۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ طالب علم، علم کے ساتھ محبت اور شفقت کا بھی بے پناہ طلب گار ہوتا ہے۔ 

لیکچر ہال طالب علموں اور فیکلٹی سے کچھا کھچ بھر ہوا تھا۔ سائبر ہراسمنٹ کے لیکچر میں طالبہ بہت منمہک رہیں، اختتام پر طلبہ کی طرف سے آن لائن سیکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے درجنوں سوالات اٹھائے گئے۔ میں نے طلبہ میں انکی آن لائن موجودگی کے حوالے سے شدید تحفظات محسوس کیے۔ لیکچر ہال سے نکلتے ہی میں نے اپنا موبائل آن کردیا۔ میسجز اور دیگر نوٹیفیکیشنز موصول ہونے لگے، کسی عورت کی طرف سے ایک میسج انباکس میں تھا۔

کیا آپ میری مدد کریں گے؟

جی آپ اپنا مسلہ بتائے، ہم سائبر کرائم متاثرین کی ہیلپ کرتے ہیں، آپ اپنے مسلہ کی تفصیل اور ثبوت وٹس ایپ کر دیں۔

سر، ایک وڈیو ہے جو نہایت قابلِ اعتراض ہے، میں جو ڈیٹا بھیجوں گی، کیا وہ محفوظ رہے گا؟

محترمہ، ہم سائبر کرائم کیسز کو پرائیویسی اور سیکیورٹی سے حل کرتے ہیں، اور پیشہ ورانہ طور پر ڈیٹا پرائیویسی کی ضمانت دیتے ہیں۔ 

میری طرف سے تشفی ہوتے ہی اس نے ایک وڈیو کلپ بھیج دیا، جو ایک ساقط کھڑے بے آواز کیمرے سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ کیمرے کی سامنے دیوار پہ مقامات مقدسہ اور سبز چوغوں میں ملبوس بزرگ کی پینٹنگزتھیں جس کی نظریں فرش پر جمی تھیں، فرش پر مختلف رنگوں والا قالین بچھا تھا، جس کے اوپر ایک سفید چادر اور تکیہ لگا ہوا تھا جس کے پاس ایک عدد کالی پٹی پڑی تھی۔ برقعہ میں ملبوس ایک عورت کمرے میں داخل ہوئی، اس نے کمرے کا بغور جائزہ لیا، اسکی چاروں طرف گماتی گردن میں ہچکچاہٹ اور ڈر تھا۔ ایک لمحے توقف کے بعد اس نے اپنا برقعہ اتار کر تکیے کی پچھلی طرف رکھ دیا، اب اسکے  کانپتے ہوئے ہاتھ اپنی قمیض کی لٹکتی تریزوں کی طرف بڑھے ، اس نے اگلی حرکت سے پہلے کن اکھیوں سے بغیر گردن ہلائے کمرے کا دوبارہ جائزہ لیا، جیسے وہ کسی چور آنکھوں کی موجودگی سے خائف ہو، ایک جھٹکے میں اس نے اپنی قمیض اتار کر برقعہ کے ساتھ رکھ دی، ایک دبلا پتلا جوان سالہ گورا چٹا بدن نیم برہنہ حالت میں کھڑا تھا۔ یکایک اس نے اپنے باقی دو عدد کپڑے بھی اتاردئیے اور تکیے کے پاس رکھی کالی پٹی کو اپنی آنکھوں پر باندھا کر قالین پر بچھی سفید چادر پر دراز ہو گئی۔ وہ بلکل بے حس و ساکت پڑھی تھی۔ کیمرے کی آنکھ اسکی کوئی بھی حرکت محسوس کرنے سے قاصر تھی۔ 

چند لمحوں بعد کمرے میں آدھا چہرہ ڈھانپے ایک ننگ دھڑنگا آدمی نہایت دبے پاؤں داخل ہوا اسکے ایک ہاتھ میں پانی کا گلاس اور دوسرے میں درخت کی ٹہنی جسکے آخر پہ پیپل کے جیسے کچھ پتے تھے۔ اسکا کمرے میں داخل ہونے والا انداز بتا رہا تھا کی جیسے وہ اپنی موجودگی سے عورت کو بے خبر رکھنا چاہ رہا ہو۔ 

 اس نے آتے ہی اپنے چہرے کا رومال نیچے کر کے عورت کو زیر ناف اور ننگی چھاتیوں پر تین بار پھوکیں ماریں، لیٹی عورت بے حس و حرکت رہی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی پتوں والی چھڑی سے عورت کے پیروں سے اوپر اسکے برہنہ جسم کو سہلانا شروع کر دیا، عورت نے اپنے جسم پر سرسراتے پتوں کے نرم لمس سے اپنے کندھے اچکاتے ہوئے جھرجھری لی۔ یہ عمل اس نے کئی بار دھرانے کے بعد چھڑی والے پتوں کو زیر ناف اور چھاتیوں کو مرکوز کر لیا، اب اسکے عمل میں تیزی آگئی تھی، لیٹی عورت کے جسم میں تناؤ بڑھتا گیا حتیٰ کہ اسکی چھاتیوں کے گول ابھار تن کر نمایاں دکھائی دینے لگے۔ ننگ دھڑنگے مرد نے چھڑی ایک طرف پھینکی اور عورت کی ٹانگوں کی طرف سے جانگیوں کو اوپر کر کے دم پھوکنے لگا، عورت کا جسم خودکار مرد کی ہر جنبش سے حرکت کر رہا تھا۔ استراحت سے بیٹھا مرد یکدم  عورت سے ہم بدن ہو کر حیوانی جزبہ کی تسکین کے مرحلے میں  داخل ہو گیا، کیف اخراج کی منزل طے کرنے کے بعد اس نے پانی کے گلاس سے چند قطرے لیٹی عورت کے چہرے پر پھینکے اور تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔ پیر کے عملیات کا کرامتی عمل مکمل ہو چکا تھا۔ عورت بے حس وحرکت پڑی تھی، شائید وہ عملیات کے عمل کو منطقی معنی دینے کے کوشش کر رہی ہو۔ حیوانی جبلت کا اشتعال نیکی، بدی، جرم اور عزت کے سارے مفہوم مٹا دیتا ہے۔ برہنہ لیٹی عورت کے حرکت کرنے سے پہلے کمرے کی لائٹ بند ہو گئی۔     

میں نے وڈیو دیکھنے کے بعد کیس کی نوعیت سمجھنے سے قاصر رہا تو انباکس میں پوچھا، بی بی آپکا نام کیا ہے اور یہ وڈیو کس کی ہے؟ 

 سر میں آپکو سارا قصہ بتاتی ہوں، میرا نام صابرہ ہے۔ میری شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں، اور ابھی تک میرے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی، جو بن پڑا سب کیا مگر مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا، سسرال کے طعنے و تشنع نے الگ جینا محال کیا ہوا ہے۔ میری ساس مجھے یہاں کسی پیر کے پاس لے گئیں، کہ انکی کرامات سے کئ بے اولادوں جوڑوں کو اولاد کی نعمت ملی ہے۔ 

 یہاں ایک پیر مصلا کے نام سے جھوٹا پیر ہے۔ جو بے شمار عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکا ہے، اور مجبور عورتوں سےلاکھوں روپے اور سامان ہتھیا چکا ہے۔ میں بھی اسکی ہوس کا شکار ایک عورت ہوں۔ وہ تمام عورتوں کی ننگی ویڈیوز اور برہنہ تصاویر بناتا ہے پھر ہمبستری کرتا ہے، اور ننگی ویڈیوز کی بنا پر بلیک میلنگ سے پیسے وصول کرتا ہے. یہ وڈیو اس نے مجھ پر عمل کرتے ہوئے بنائی تھی، عمل کے بعد اس نے ایک ماہ بعد دوبارہ آنے کا کہا اور ایک بکرا صدقے میں مانگا۔ نہ تو میں دوبارہ وہاں گئی اور نہ ہی اسکا صدقے والا مطالبہ پورا کیا۔ وہ ہمیں بار بار فون کرتا رہا اور اپنے عملیات سے ڈراتا بھی رہا اب اس نے یہ وڈیو بلیک میلنگ کرنے کے لیے بھیجی ہے۔ سر سنا ہے کہ آپ متاثرہ لوگوں کی رازداری سے مدد کرتے ہیں، خدا کے لئے میر مدد کیجے ورنہ میں برباد ہو جاؤں گی۔ 

صابرہ کی مہیا کردہ معلومات سے ملزم پیر مصلا کی آن لائن موجودگی کے آثار فیسبک اور واٹس ایپ پر ملے۔ فیس بک پر آن لائن پیر کے نام سے اکاؤنٹ بنایا گیا تھا۔ میری سائبر پروٹیکشن ارجنٹ رسپانس ٹیم فیس بک اکاؤنٹ کے انلیسز میں کچھ حاصل نہ کر سکی سوائے روحانیت کی پوسٹوں سے جو نہایت پرکشش اور متاثر کن تھیں۔ 

اب رسپانس ٹیم کی پوری کوشش تھی کہ اسکے واٹس ایپ کے اکاؤنٹ تک رسائی ہو سکے، جو وہ اکثر کامیابی سے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیا کرتی ہے۔ 

میں نے صابرہ سے مزید پوچھ تاچھ کی، اور جرح کا طریقے کار اختیار کرتے ہوئے پہلے سے مہیا کردہ معلومات کی تشفی کر لی، مگر وہ کئی سوالات کے جوابات دینے سے گریزاں تھی ایس صورت حال میں کسی متاثرہ فریق کو کریدنے کی بجائے ڈیجیٹل معلومات تک رسائی زیادہ سود رہتی ہے۔ میری طرف سے گرین سگنل ملنے پر رسپانس ٹیم نے چند گھنٹوں میں پیر مصلا کے وٹس ایپ تک رسائی حاصل کر کے ڈیٹا کاپی کر لیا۔ حاصل شدہ ڈیٹا کا ابتدائی تجزیہ  نہایت ہیجان انگیز تھا۔ دو سو سے زیادہ عورتوں کی ننگی ہمبستری کی وڈیوز تھیں۔ متاثرہ عورت صابرہ جن معلومات دینے سے گریزاں تھی وہ معلومات تھیں ہی ایسی کہ ایک عورت اپنی زبان تک لانے کی جرات نہ کر سکتی تھی۔ 

پیر کے احترام کا ڈر خدا کے احترام کے ڈر سے زیادہ ہوتا ہے، لوگ خدا کی نہیں مانتے جبکہ پیر کی ہر ایک مان لیتے ہیں۔ پیر مصلا ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے اپنا دھندہ کر رہا تھا اور کئی اہم حلقوں میں وہ اپنی پہچان بنا چکا تھا۔ وہ عملیات کے ذریعے اپنا عمل کرنے کے طریقہ کار میں عورتوں یہ کہہ کر کہ عملیات اپنا عمل صرف انسانی پیدائشی حالت یعنی بلکل عریاں ہونے پر کرتے ہیں اور اپنے عمل میں بااختیاراور جارح ہوتے ہیں مگر وہ حجابی نظر چاہتے ہیں، اس طرح عورت کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی اور پھر پیر مصلا خود یا اپنا کسی خواص کو تحفتہ” عورت سے ہمبستری کی دعوت دیتا اور خفیہ کیمروں سے ساری ریکارڈنگ کر لیتا۔ پیر مصلا اکیلا مجرم نہ تھا بلکہ ایک منظم گروہ کی شکل میں دھندہ کر رہا تھا اسی گروہ کے فرد گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ جا کر پیر مصلا کی کرامات کے جھوٹے قصے سناتے اور سادہ لوح لوگوں کو ورغلا پھسلا کر پیر صاحب کی چوکھٹ تک لے آتے جہاں وہ اپنے ایمان کی محرومی کے ساتھ، اپنی عزت اور زر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے، اسکے پیروکاروں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو معاشرے میں با اثر اور معزز سمجھے جاتے تھے، فقط اپنی ہوس مٹانے کی خاطر پیر مصلا کا ہر ناجائز کام کرتے اور مجبور و مقہور عورتوں کی عزت پامال کرتے۔ سیریح” مادیت پرستی میں لوگوں کا اکٹھ نیک نیتی سے برائی و ظلم میں متفق ہو جاتا ہے، وہ عدل کے اصولوں کی ننگی پامالی کے باوجود اپنی منطق میں بڑے طاقت ور ہوتے ہیں۔ 

پیر مصلا کے کردار کا دوسرا خوفناک پہلو یہ تھا کہ وہ عرصہ دراز سے اپنے دھندے میں ملوث تھا۔ جس کے نتیجے میں وہ بے شمار ناجائز بچوں کا باپ بن چکا تھا۔ جس کا اظہار اس نے ایک وڈیو میں چلبلاتے ہوئے کیا تھا۔ اس بات کی تصدیق صابرہ نے بھی کر دی مگر یہ تفصیل نہایت افسوس ناک تھی کہ بے شمار لوگوں کو اس کا پتہ ہے مگر وہ اسے پیر کی دین اور کرامت کا ہی خاصہ سمجھتے تھے۔ 

میرے لئے یہ امر بلکل عیاں تھا کہ اسکے خلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی تھی۔ کوئی بھی شکایت کنندہ سامنے نہیں لایا جا سکتا تھا۔ معاشرتی زندگی میں بظاہر کوئی انحراف بھی قابل تنقید نہیں ہوتا جب تک وہ مادی محرومی کا باعث نہ ہو۔ پیر مصلا کا گھناؤنا دھندہ کئی بے اولاد جوڑوں میں بااولاد ہونے کا باعث تھا۔ یہ لوگ سب اصلیت جاننے کے باوجود بھی کسی تذبذب میں نہ تھے نہ ہی یہ حقیقت کوئی زیر لب لانے کو تیار تھا۔ پیر مصلا اس بات کو لوگوں میں طریقت کی شکل میں باآور کروا چکا تھا اور وہاں یہ عام فہم لوگوں کے ایمان کا پختہ حصہ بن گئی تھی۔

صابرہ میرے کہے بغیر بھی اپنے تئیں بہت کوشش کرتی آئی کہ کوئی شکایت کنندہ کی شکل میں سامنے آئے مگر وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اسکے اپنے گھر میں کوئی بھی پیر مصلا کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہ تھا. صابرہ نے دل شکستہ مجھے فون کیا کہ سر میں نے کئی عورتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی مگر کوئی بھی سامنے آنے کو تیار نہیں، مجھے دکھ ہے کہ میں آپکی مزید کوئی بھی مدد نہیں کر سکتی۔ خدا کے لئے آپ ہی کوئی راہ نکالیں، میں دل سے ایک برائی اور جرم کے شجر کو تصوراتی بڑھتا دیکھ کر اس کی بیخ کنی کا پختہ عزم کر چکا تھا، اب میری بے چینی بڑھنے لگی، انسان اپنے ایمان کے کسی بھی کمزور درجے پر کیوں نہ ہو، وہ زندگی کے مثبت زاویوں کی طرف مائل رہتا ہے۔ 

تمام پہلووں کو دیکھتے میں نے معاشرے میں پر اثر پیغام پہنچانے کے لیے اپنے ٹی وی میزبان دوست سے رابطہ کا فیصلہ کیا۔ وہ عوامی اصلاح کا ایک مقبول پروگرام کرتا تھا، وہ ایک متاثر کن پیغام دے سکتا تھا۔ دوست کی ہدایات پر ٹی وی سنسر رولز کے مطابق ایک سکرپٹ تیار کیا اور ضروری ڈیٹا کے ساتھ اسکو بھیج دیا۔ اب انتظار کرنے لگا کہ کب وہ کوئی سٹنگ آپریشن کے ذریعے اس جعلی پیر کو ننگا کرتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ مہینے بعد ٹی وی میزبان دوست کا شارٹ پیغام آیا،Done, Tomorrow کا مطلب تھا کہ اسکا سٹنگ آپریشن کامیاب رہا، اسکا پروگرام حسب معمول ٹی وی پہ آن ائیر ہوا جس میں اس نے پیر مصلا کا کچا چٹھا کھول کر عوام کے سامنے رکھ دیا، مجھے پروگرام کے توسط سے جب یہ پتا چلا کہ اس جھوٹے پیر کو پہلے دو کلمے بھی صحیح سے نہیں آتے، میرا اسکے پیروکار عوام کی جاہلیت پر ماتم کرنے کو دل کیا۔  ٹی وی کنٹرولنگ اتھارٹی کی قیودو ضوابط کی بنا پر اس نے پیر مصلا کے گھناؤنے پہلوؤں کی تفصیل سے احتراز کیا۔ میں نے دوست کو شکریہ کا پیغام بھیجا، دماغ میں جلتی ہوئی خلش ایک برائی کی بیخ کنی پر اطمینان کا احساس دے رہی تھی مگر دل میں پیر مصلا کو اسکے جرائم پر سزا نہ ملنے پر ایک گہرے دکھ کا دھواں سا چھایا رہا۔ میں نے کمپیوٹر آن کیا تو ان باکس میں کسی لڑکی کا ” کیا آپ میر مدد کریں گے” کا پیغام میرے جواب کے انتظار میں تھا۔ 

Other Short Cybercrime Stories by Author

سائبر لیگل نوٹس

انٹرپول

آن لائن فوٹو شوٹ

 

 

4 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top